یورپ کی اہم تریں پائپ لائن کی دلچسپ معلومات

 

تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، جیسے ستر کی دہائی میں امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کی مدد سے روس کو شکست دی، اسی طرح آج وہ یوکرائن کی سر زمین پر روس سے جنگ کر شروع کر رہا ہے۔ یہ جنگ روس اور ہوکرائن کی نہیں بلکہ امریکہ اور روس کی ہے جو گیس پر قبضہ جمانے کیلئے کی جارہی ہے۔ 


#گیس کے ذخائر یا #نیٹو میں شمولیت پر جنگ?؟?؟

روس گیس کا سب سے بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے۔

 یورپ اپنی ضروریات کی پینتیس فیصد گیس کے لیے روس کا محتاج ہے۔ اس گیس کے سب سے بڑے خریدار #جرمنی، #اٹلی اور #نیدرلینڈز ہیں۔ #آسٹریا اگرچہ اپنی ضرورت کی بیس فیصد گیس روس سے خریدتا ہے، مگر دیگر یورپی ممالک کے برعکس اس بابت اس کا سو فیصد انحصار روس پر ہے۔ یہی حال #سلوواکیہ اور #ہنگری کا بھی ہے۔

 روسی گیس کی سپلائی جس پائپ لائن سے ہوتی ہے وہ یوکرین سے گزرتی ہوئی #بیلا روس اور #پولینڈ کے راستے یورپ پہنچتی ہے۔


#امریکا کو خدشہ ہے کہ اگر یورپ کا دار و مدار روسی گیس پر بڑھتا چلا جاتا ہے تو پھر روس اسے ایک اسٹرٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔


یوکرین کے باغی علاقوں میں یوکرین کے گیس کے تقریبا پلس 70% گیس کے ذخائر موجود ہیں اسی وجہ سے روس نے انہیں آزاد ملک تسلیم کیا اور اپنی گیس پائپ لائن کو تقویت دینے سمیت گیس کے ذخائر میں اضافہ اس جنگ کا سبب یے یوکرین کا #نیٹو میں شامل ہونا فقط مبالغہ آرائی ہے جنگ گیس کے ذخائر پر یورپ اور روس کے درمیان یوکرین کے سرزمین پر ہورہی ہے۔

۔

Comments