بھارت کا ٹرین حادثہ کا سراغ مل گیا
بھارت میں ٹرینوں کا استعمال بہت زیادہ ہے اور سفر کے دوران مسافر ٹرین کا ٹائلٹ بھی استعمال کرتے ہیں۔
پہلے ٹرین کا ٹائلٹ اوپن سسٹم کا ہوتا تھا، جس سے فضلہ سیدھ نیچے پٹری پر گرتا تھا، جس سے پٹری پر گند اور تعفن کے ساتھ ساتھ پٹری کو زنگ لگنے کا چانس بھی بڑھ جاتا تھا، ساتھ ہی جب ٹرین سٹیشن پر رکتی تھی تو وہاں بھی گندگی پھیلتی تھی، یا پھر کچھ ٹرینوں میں فضلہ سٹور کرنے کے لیے ٹینکس ہوتے ہیں، جنہیں سفر کے بعد خالی کرنا پڑتا ہے۔
لیکن پھر بھارت کی ریلوے نے کیا ہی بہترین نظام اپنایا۔ انہوں نے ٹرین میں "بائیو ٹائلٹ" (bio toilet) متعارف کروایا۔
بائیو ٹائلٹ میں فضلے کو نیچے پٹری پر جانے کی نہیں دیا جاتا بلکہ اسے ایک خاص ٹینک نما سسٹم میں سٹور کیا جاتا ہے، جہاں خاص قسم کے anerobic bacteria ہوتے ہیں، جو اس فضلے سے خوراک لیتے ہیں، اور اس کے لیے فضلے کو کئی کیمائی عوامل سے گزارتے ہیں، جن سے گزرنے کے بعد فضلے سے پانی اور بائیو گیس (میتھین) نکلتی ہے، وہی بائیو گیس جس کا پلانٹ لگایا جاتا ہے جس میں گوبر کو استعمال کیا جاتا ہے۔
اس بائیؤ گیس اور پانی کو سٹور کر لیا جاتا ہے، پھر پانی کو فلٹریشن کے عمل سے گزار کر ٹرین میں ہی مختلف کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ ٹائلٹ میں استعمال کے لیے یا پھر ٹرین کو صاف کرنے اور دھونے کے لئے۔ جبکہ اس طرح سے بننے والی بائیو گیس کو ایک فیول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس سے کھانا پکایا جسکتا ہے، یا خاص جنریٹر میں استعمال کرے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، سردیوں میں ہیٹر اور گیزر چلایا جاسکتا ہے۔
یہ سب عمل کرنے کے بعد فضلے کا تھوڑا سا بچا ہوا حصہ بھی سٹور رکھا جاتا ہے جسے بعد میں ضائع کیا جاتا ہے یا پھر اسے ایک قدرتی کھاد کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
2021 کے ڈیٹا کے مطابق انڈین ریلویز کی مسافر ٹرینوں کے 70 فیصد ڈبوں میں بائیو ٹائلٹ لگائے جاچکے ہیں۔ اس نظام سے پٹری کی مرمت پر لگنے والے پیسوں کی بھی بچت ہوگی، اندازوں کے مطابق یہ بچت چار سو کروڑ انڈین روپے کی ہوگی جو پاکستان کے پندرہ سو کروڑ سے زیادہ بنتے ہیں۔
ٹرینوں میں یہ ٹیکنالوجی انڈین ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) نے متعارف کروائی۔ یہ طریقہ کوئی نیا نہیں ہے، ہم پہلے بھی جانتے تھے کہ بیکٹیریا اس طرح فضلے سے بائیو گیس، پانی اور کھاد پیدا کرسکتا ہے، لیکن ایک ضرورت کی جگہ پر اس طریقے کو فٹ کر کے، ایک نقصان کو نفع میں بدلنا قابل تعریف اور سیکھنے کے لائق ہے، اور یہی سائنس کا حُسن ہے۔۔۔
#وارث_علی

Comments
Post a Comment